Apr 08, 2020 10:30 Asia/Kabul
  • سائنسدانوں کا کورونا وائرس کا 'کمزور پہلو' دریافت کرنے کا دعویٰ

سائنسدانوں کی جانب سے اس کے علاج کی تلاش کے لیے بھرپور کوششیں کی جارہی ہیں اور اب امریکی سائنسدانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے اس وائرس کا 'کمزور پہلو' دریافت کرلیا ہے۔

نئے نوول کورونا وائرس کی وبا دنیا بھر میں تیزی سے پھیل رہی ہے اور اب تک 14 لاکھ کے قریب افراد متاثر جب کہ 78 ہزار سے زائد ہلاک ہوچکے ہیں، صحتیاب افراد کی تعداد 2 لاکھ 92 ہزار سے زیادہ ہے۔
سائنسدانوں کی جانب سے اس کے علاج کی تلاش کے لیے بھرپور کوششیں کی جارہی ہیں اور اب امریکی سائنسدانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے اس وائرس کا 'کمزور پہلو' دریافت کرلیا ہے۔
اسکریپس ریسرچ کی تحقیق میں بتایا گیا کہ وائرس کے ایک مخصوص حصے کو ویکسین سے ہدف بنایا جاسکتا ہے۔
درحقیقت انہوں نے ایک انسانی اینٹی باڈی کو نئے کورونا وائرس پر آزمایا، جو برسوں پہلے سارس کورونا وائرس کو شکست دینے والے ایک مریض سے حاصل کیا گیا تھا اور وہ نئے کورونا وائرس کو بھی کمزور کرنے میں کامیاب رہا۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا مہار کرنے کے لئے امریکہ ڈکیتی پر اتر آیا

محققین کا کہنا تھا کہ اس کمزور حصے کا علم نئے کورونا وائرس کے خلاف ویکسینز اور تھراپیز کی تیاری میں مدد دے گا جبکہ اس سے ان کورونا وائرسز سے تحفظ بھی مل سکے گا جو مستقبل میں ابھر سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ دریافت کیا جانے والا حصہ ممکنہ طور پر اس وائرس کا کمزور ترین پہلو ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بدقسمتی سے وائرس کی خامی دریافت کرنا بہت مشکل ہے جو اس کے اسرار میں اضافہ کرتا ہے۔
محققین کے مطابق ہم نے وہ حصہ دیرافت کیا ہے جو عموماً وائرس کے اندر چھپا ہوتا ہے اور اسی وقت ظاہر ہوتا ہے جب وائرس کی ساخت میں تبدیلیاں آتی ہیں۔
اس تحقیق کے دوران کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کے مریضوں کو تلاش کرنے کی کوشش کی گئی جو ممکنہ اینٹی باڈیز کے لیے خون کو عطیہ کرسکیں۔
اس تحقیق کے نتائج جریدے جرنل سائنس میں شائع ہوئے۔
اس سے قبل مارچ کے آخر میں شائع ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ کہ صحتیاب مریضوں کی جانب سے عطیہ کردہ خون سے کورونا وائرس سے بہت زیادہ بیمار افراد کی بحالی میں مدد مل سکتی ہے۔
جرنل آف دی امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن میں شائع تحقیق میں چین کے ہسپتال میں قریب المرگ مریضوں پر اس طریقہ کار کے استعمال کے بارے میں بتایا گیا۔
کووڈ 19 کے ان مریضوں کو تجرباتی بلڈ پلازما ٹرانسفیوژن کا تجربہ کیا گیا اور ان کی حالت میں کافی حد تک بہتری دیکھی گئی۔
اگرچہ یہ تحقیق محدود اور بہت چھوٹے پیمانے پر ہوئی اور حتمی طور پر کچھ طے کرنا مشکل ہے مگر نتائج سے اس طریقہ کار کی افادیت کے خیال کو مزید تقویت ملتی ہے۔
پاکستان میں بھی سندھ اور خیبرپختونخوا میں اس طریقہ کار پر عملدرآمد کا جائزہ لیا جارہا ہے۔
امریکا میں اس بیماری سے سب سے زیادہ متاثر ریاست نیویارک میں اس پلازما ٹرانسفیوژن کو سنگین کیسز کے لیے آزمانے کا اعلان کیا گیا تھا۔
جنوبی کوریا میں اس طریقہ کار کی مدد سے 2 قریب المرگ مریضوں کی صحتیابی میں مدد ملی ہے۔
فرانس میں بھی 60 مریضوں پر اس کی آزمائش ہورہی ہے۔

ټیګونه

کمنټونه