Apr 08, 2020 10:32 Asia/Kabul
  • کورونا وائرس کی دوسری ویکسین کی انسانوں پر آزمائش

دنیا بھر میں تیزی سے پھیلنے والے کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے اس وقت تقریباً دنیا کی 35 سے زیادہ کمپنیاں ویکسین بنانے میں مصروف ہیں جن میں سے اب ایک امریکی کمپنی کی ویکسین کی انسانوں پر آزمائش شروع کردی گئی ہے۔

مذکورہ ویکسین سے قبل بھی امریکا کی ایک کمپنی کی ویکسین کی انسانوں پر آزمائش شروع کی گئی تھی۔
نئی ویکسین سے قبل گزشتہ ماہ 16 مارچ سے میساچوسٹس سے تعلق رکھنے والی کمپنی موڈرینا کی جانب سے محض 2 ماہ میں تیار کردہ ویکسین کی انسانوں پر آزمائش شروع کی گئی تھی۔
اسی ویکسین کو ریاست واشنگٹن کے 45 افراد میں آزمانے کا پروگرام جاری ہے، جن افراد پر مذکورہ ویکسین آزمائی جا رہی ہے ان کی عمریں 18 سے 55 سال کے درمیان ہیں اور وہ سب صحت مند ہیں۔مذکورہ ویکسین کے ٹرائل کے حوالے سے امریکا کے نیشنل انسٹیٹوٹس آف ہیلتھ انفیکشز ڈیزیز کا کہنا تھا کہ کلینیکل ٹرائل کا دورانیہ کم از کم ایک سال سے 18 ماہ تک ہوسکتا ہے جس کے دوران اس کے محفوظ اور مؤثر ہونے کا تعین کیا جائے گا۔
اور اب امریکا میں ایک اور ویکسین کی بھی انسانوں پر آزمائش شروع کردی گئی۔
ٹیکنالوجی ادارے ٹیک کرنچ کے مطابق بل اینڈ ملنڈا گیٹس کے تعاون سے امریکی کمپنی انوویو کی جانب سے تیار کردہ ویکسین کی 6 اپریل سے انسانوں پر آزمائش شروع کردی گئی۔
انوویو کی جانب سے تیار کردہ ویکسین کی پہلے ہی جانوروں پر کامیاب آزمائش کی جاچکی ہے اور مذکورہ ویکسین کو جانوروں پر استعمال کرنے کی اجازت بھی حاصل کی گئی تھی۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ انوویو کی جانب سے تیار کردہ ویکسین کو (انو 4800) ڈی این اے ویکسین کا نام دیا گیا ہے جو انسان کے مدافعتی نظام کو تقویت فراہم کرکے انسانی جسم میں اینٹی باڈیز کی پیداوار کو بڑھاتی ہے۔
کمپنی کے مطابق ان کی ویکسین کو بھی امریکا کی 2 مختلف جگہوں پر 40 رضاکاروں پر آزمایا جائے گا، ابتدائی طور پر رضاکاروں کو ہر 4 ہفتے ڈوز دیا جائے گا اور پھر رضاکاروں کا جائزہ لے کر ویکسین کے دوسرے مرحلے کو شروع کیا جائے گا۔
کمپنی کے مطابق مذکورہ ویکسین کمپنی کی ایسی ہی ویکسین انو 4700 سے تیار کی گئی ہے جسے پہلے ہی کورونا وائرس کی پرانی قسم کے حوالے سے جانوروں کا علاج کرنے کے لیے منظوری حاصل ہے۔
کمپنی نے بتایا کہ کورونا وائرس کے لیے تیار کی گئی نئی ویکسین کے لیے کمپنی کو بل اینڈ ملنڈا گیٹس سمیت دیگر عالمی فلاحی اداروں نے فنڈز مہیا کیے ہیں اور اگر مذکورہ ویکسین کامیاب گئی تو کمپنی مختصر مدت میں 10 لاکھ ویکسین تیار کرنے کی اہلیت رکھتی ہے۔
تاہم یہاں یہ بات واضح رہے کہ اگر اس ویکسین کا ٹرائل بھی کامیاب جاتا ہے تو بھی اس ویکسین کی عام دستیابی میں 12 سے 18 ماہ کا وقت لگے گا اور اس سے پہلے دنیا میں کورونا سے بچاؤ کی کوئی بھی ویکسین دستیاب نہیں ہوگی۔
کورونا وائرس کی ویکسین نہ ہونے کے باوجود اس وقت دنیا بھر میں مختلف ادویات اور طریقوں سے کورونا کے مریضوں کا علاج کیا جا رہا ہے تاہم ویکسین کے بعد اس مرض بہتر انداز میں مناسب علاج ہونا شروع ہوگا۔

ټیګونه

کمنټونه