Feb 17, 2020 11:20 Asia/Kabul

مولانا جلال الدین بلخی کا مشہور عرفانی کلام، استاد نصرت فتح علی خان کی آواز میں اردو ترجمے کے ساتھ

نه من بيهوده گرد کوچه و بازار می گردم
مذاق عاشقی دارم پئے ديدار مي گردم
خدايا رحم کن بر من پريشان وار می گردم
خطا کارم گناهکارم به حال زار می گردم
شراب شوق می نوشم به گرد يار می گردم
سخن مستانه می گويم ولی هشيار می گردم
گہی خندم گہی گريم گهی افتم گہی خيزم
مسيحا در دلم پيدا و من بيمار می گردم
بیا جانا عنایت کن تو مولانای رومی را
غلام شمس تبریزم قلندروار می گردم
ترجمہ :
میں کُوچہ بازار میں یونہی آوارہ اور بے وجہ نہیں گھومتا بلکہ میں عاشقی کا ذوق و شوق رکھتا ہوں اور یہ سب کچھ محبوب کے دیدار کے واسطے ہے۔
اے خدا مجھ پر رحم کر کہ میں پریشان حال پھرتا ہوں، خطار کار ہوں، گنہگار ہوں اور اپنے اس حالِ زار کی وجہ سے ہی گردش میں ہوں۔
میں شرابِ شوق پیتا ہوں اور یار کے گرد گھومتا ہوں، میں اگرچہ شرابِ شوق کی وجہ سے مستانہ وار کلام کرتا ہوں لیکن دوست کے گرد طواف ہوشیاری سے کرتا ہوں یعنی یہ اس دیوانگی کے باوجود مجھے یہ ہوش ضرور ہیں کہ کس کے گرد گھوم رہا ہوں۔
کبھی ہنستا ہوں، کبھی روتا ہوں، کبھی گرتا ہوں اور کبھی اٹھ کھڑا ہوتا ہوں۔ میرے دل میں مسیحا پیدا ہو گیا ہے اور میں بیمار اسکے گرد گھومتا ہوں۔ دل کو مرکز قرار دے کر اور اس میں ایک مسیحا بٹھا کر، بیمار اسکا طواف کرتا ہے۔
اے جاناں آ جا اور مجھ رومی پر عنایت کر، کہ میں شمس تبریز کا غلام ہوں اور دیدار کے واسطے قلندر وار گھوم رہا ہوں۔ (اس زمانے میں ان سب صوفیا کو قلندر کہا جاتا تھا جو ہر وقت سفر یا گردش میں رہتے تھے)۔
(بشکریہ محمد وارث)

ټیګونه

کمنټونه